غلیلے

خاور کھوکھر(کنگ)٠

خاور کھوکھر(کنگ)٠

گلیلے ، مٹی کی گولیاں جو کہ آگ میں پکا کر تیار کی جاتی تھیں ،۔
نصف صدی کی زندگی گزار چکا ہوں ، بہت سی باتیں ہیں جو بدل چکی ہے ، رسوم ، روایات ، کھیل کھلونے ۔پچاس سال میں بہت کچھ تبدیل ہو جاتا ہے ،۔
یا کہ شاید میرے لڑکپن سے اڈھیڑ عمر کا زمانہ ،انسانی تاریخ میں تیز رفتار ترین زمانہ ہوا ہے ۔
جب ہم نے ہوش سنبھالا یہی کوئی پچھلی صدی کی ساتویں دہائی کی بات ہے ،۔
پاکستان ٹوٹنے کے فوراً بعد کی بات کر رہا ہوں ،۔
کبھی کبھی تو سوچتا ہوں کہ ،”گلیلے “ صرف میری برادری کی ہی تو گیم نہیں تھی ،۔
اردگرد سب لڑکے گلیلے بنا کر گلیلوں کی مضبوطی کا مقابلہ کرتے تھے ،۔
یہ کھیل کچھ اس طرح ہوتا تھا کہ مٹی کی گولیاں ہوتی تھیں جن میں سوراخ ہوتا تھا ،۔
مالا کے موتی کی طرح !!،۔
تسبیح کے دانے کی طرح ۔
لیکن یہ گولی بیر کے سائز سے لے کر ٹیبل ٹینس کے گیند تک کے سائز کی ہوتی تھیں ۔
گلیلے کے سوراخ میں میں مضبوط ڈوری ڈال کر اس کے ایک سرے کو گانٹھ باندہ دی جاتی تھی تاکہ ڈوری ،گلیلے سے نکل نہ جائے ،۔
ایک کھلاڑی اپنے گلیلے کو زمین پر رکھتا تھا ،۔
دوسرا کھلاڑی اپنے گلیلے کی ڈوری کو گھماکر زرو سے اپنا گلیلا زمین پر پڑے ہوئے گلیلے پر مارتا تھا۔
مقصد ،مخالف کھلاڑی کے غلیلے کو توڑنا ہوتا تھا ۔
ہر لڑکے کی جھولی میں دسیون غلیلے ہوتے تھے ،۔
اگر کسی نے عام سئز سے بڑا غلیلہ نکال کر رکھا تو ، مخالف ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی بڑا غلیلہ نکال کر رکھ دے ۔
بڑا غلیلہ ہی فتح کی علامت نہیں ہوتا تھا ،۔
بیر سے بھی چھوٹے سائیز کا غلیلہ ، جو کہ پکا ہوا بھی بہتر ہوتا تھا ،۔
اس چھوٹے غلیلے پر حملہ آور غلیلہ ،خود ٹوٹ جاتا تھا ،۔
یہ غلیلے خود ہی بنائے جاتے تھے ،۔
شاید کمہار بچوں کی تعلیم کے لئے تھا کہ شائد اس زمانے میں سبھی لوگ ایسا کرتے تھے ،۔

گاؤں سے باہر سے چکنی مٹی والے کھیتوں سے مٹی لاکر اس کو  گوندہ کر اس کی گولیاں بنا لی جاتی تھیں ،۔
کسی تیلے تنکے کے ساتھ  اس میں اسی وقت سوراخ کر لیا جاتا تھا ،۔
سوراخ بڑی احتیاط سے کیا جاتا تھا کہ  دھاگہ گزارنے میں دقت نہ ہو ،۔
گارے کے بنے ان غلیلوں کو خشک ہونے کے لئے رکھ دیا جاتا تھا ،۔
پہلے ان کو سایہ دار جگہ پر رکھا جاتا تھا ،تاکہ اچانک کی دھوپ سے غلیلے میں دراڑ نہ پڑ جائے ،۔
دوسرے دن ان کو دھوپ میں رکھ دیا جاتا تھا ،۔
تین چار دن میں یہ غلیلے خشک ہو جاتے تھے ،۔
ان غلیلوں کو پکانے کے لئے آگ تیار کی جاتی تھی ،۔
گوبر کے اپلوں سے ایک پرامڈ بنایا جاتا تھا ،۔
جس کی ایک تہہ بچھا کر ایک خاص ترتیب سے سے اس میں غلیلے رکھتے جاتے تھے اور اپلون کا پرامڈ اونچاکر تے جاتے تھے ،۔
اگ لگا کر اس کو چھوڑ دیا جاتا تھا ۔ پورے دن کی آگ سے جل جل کر غلیلے تیار ہو جاتے تھے ۔
اچھے پکے ہوئے غلیلے کا رنگ سرخ ہوتا تھا ،۔
کچھ غلیلے کالے ہو جاتے تھے اور کچھ سفید ، کچھ کالے اور سفید بھی ہوتے تھے ،۔
سوائے سرخ والوں کے باقی سبھی خام ہوتے تھے ان کو مقابلے میں نہیں اتار جاتا تھا
کیونکہ یہ ایک ہی چوٹ میں ٹوٹ کر بکھر جاتے تھے ۔
بار بار کے تجربے سے تجربہ کار لڑکے  ایسے بھٹی تیار کرنے کے ماہر ہو جاتے تھے  کہ ان کے سارے ہی غلیلے سرخ رنگ کے اور مضبوط ہوتے تھے ،۔
جن گھروں میں ابھی برتن بنانے کا کام کیا جاتا تھا ۔
برتنون والی بھٹی جس کو “ آوی “ کہا جاتا تھا ۔
ان کے لڑکے برتنون والی بھٹی (آوی) میں غلیلے پکا لیتے تھے ، برتنوں والی بھٹی(آوی)  میں تین سے چار دن کی آگ ہوتی تھی ،۔ برتنوں والی بھٹی(آوی)  میں پکے ہوئے غلیلے اندر سے پتھر کی  طرح کے کالے ہو چکے ہوتے تھے ،۔
آوی کے پکے غلیلوں والے لڑکے ،فخر سے چلتے تھے کہ انکا غلیلہ کوئی نہیں توڑ سکتا ۔
لیکن کوئی نہ کوئی لڑکا ایسا ضرور ہوتا تھا جو آوی کے غلیلے کو توڑ سکنے والا غلیلہ بنا ہی لیتا تھا ،۔
مجھے اپنے کلچر سے ٹوٹے کوئی تیس سال ہونے کو ہیں ،۔
مجھے نہیں علم کہ اب بھی وہاں ،کمہار لڑکے غلیلے بناتے ہیں کہ نہیں ،۔
برگد کے درخت کے نیچے اب بھی غلیلوں کے میچ ہوتے ہیں کہ نہیں ،۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *