تلونڈی کی باتیں یادیں کردار خاور کھوکھر کے قلم سے

دی کنگ خاور

تلونڈی گے جو کردار یاد اتے هیں ان کا تذکره کرتے هیں
مثلاً حاجی داروگر
بڑے قد کاٹھ کے مصبوط جسم والے حاجی صاحب کا صرف نام هی حاجی تھا
اور کاروبار تھا آلو چھولے بیچنا!!ـ
بعد ميں حاجی ریھڑی وال بھی مشهور رهے
جوانی میں گٹا بیچا کرتے تھے
یه گٹا کیا هوتا هے؟
ترکیب کا تو مجھے بھی علم نهں هے لیکن
بانس  کے ایک سرے پر لپیٹ کر ربڑ نما یه کینڈی بیجںے والے ایا کرتے تھے
جو که سرکنڈ کی تیلیوں پر لگا کر بیچا کرتے تھے
سرکنڈ کی تیلیوں پر گٹا لگانا بھی ایک آرٹ تھا
جو که خریدار بجے کے اڈر پر بنایا جاتا تھا
تتلی، حقه یا صراحی اس قسم کی چیزیں هیتی تھیں جو که کٹے کی ربڑ نما میٹھی چیز کو تیلیوں پر لگا کر اور تیلیوں ک موڑ کر بنایا جاتا تھا
اس اس ارٹ ميں حقه بنانا مشکل هوتا تھا اور اس ميں گٹا بھی زیاده لگتا تھا
میں عموماً حقے هی کا آڈر دیا کرتا تھا لیکن حاجی صاحب تتلی یا صراحی پر ٹرخا دیا کرتے تھے
مٹی کو صفال کہنے اور جام جمشید کا علم ان حاجی صاحب سے هوا تھا
ایک دفعه کسی عورت نے ان کا قد کاٹھ دیکھ کر اور ان کا کاروبار (گٹا بیچنا) دیکھ کر بہت تاسف کا اظہار کیا
اور حاجی صاحب کے منه پر هی کردیا
هائے هائے  وے پائیا ، ایڈا جوان هو کے تی گٹا هی پیا ویچنا ایں
اتنے گڑیل جوان هو کر کٹا هی بیچتے هو!!ـ
تو حاجی صاحب کا جواب تھا
تے مینوں کھوه اگے جو لو
یعنی مجھے کنویں ميں جوت لیں ـ
بازار میں جهان هماری دوکان هے جهان انگریزی کے حرف ٹی کی شکل بنتی هے یهان کھڑے تھے
حاجی صاحب ریھڑی لے کر ان دنوں گٹا جھوڑ چکے تھے اور دوسری چیزیں بیچا کرتے تھے
ایک راهگیر نے پتل والی گلی کی طرف اشاره کرکے حاجی صاحب سے پوچھا که یه گلی باهر نکل جائے گی؟؟
حاجی صاحب کا جواب تھا
نئیں جی گلی ایتھے هی رهے گی
هاں تسی باهر نکل جاؤں گے
حاجی صاحب کے الو چھولے کی لذت کا اسرار تھا ان کے مسالے پر جو آلو اور چنے پر دهی ڈالنے کے بعد ڈالا کرتے تھے
یه مساله ان کا راز تھا
لیکن ان کا بڑا بیٹا ضمیر الحسن میرا یار تھا
اور همارا مشترک یار تھا خالد ، عرف خادم حسین موچی
ضمیر نے یه راز خادم کو راز رکھنے کی شرط پر بتایا تھا
جب هم چوتھی ميں پڑھتے تھے انیس سو چوہتر کی بات هے
میں نے بھی یه راز راز هی رکھا
لیکن اب جب که حاجی صاحب یه کاروبار چھوڑ چکے هیں تو لکھ رها هوں که
وه  مساله تھا
نمک اور کالا نمک سرخ مرچ اور ٹاٹری
یقین کریں که صرف ان چار چیزوں سے هی آلو چھولوں کی لذت بن جاتی تھی

2 comments for “تلونڈی کی باتیں یادیں کردار خاور کھوکھر کے قلم سے

  1. March 21, 2012 at 5:40 pm
    زبردست !! حاجی صاحب کے بارے میں لکھ کر بڑی خوبصورت یادیں آپ نے دھرا دی ہیں . حاجی صاحب کی ہمشیرہ سے چند دن پہلے میری ملاقات ہوئی ہے. عمر میں تھوڑی ہی ان سے چھوٹی تھیں ، اور شکل، شبہات ، بلکل حاجی صاحب جیسی !! میری یہ ملاقات حاجی صاحب کی زوجہ محترمہ نے اپنی بھٹی پر کروائی، جو کہ مچھلی فارم سے پہلے نئی جنازہ گاہ کے پاس ہے. بہت روتی تھیں اپنے بھائی مرحوم کا ذکر کر کے. حاجی صاحب جو اشعار اکثر سنایا کرتے وہ پیش خدمت ہیں
    جنازہ روک کر میرا عجب انداز سے بولے – گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیا چھوڑے جاتے ہو
    میرا منہ کفن سے کھولا اور مسکرا کے بولے – یہ نیا لباس کیسا اور کہاں کے ہیں ارادے
  2. Waqas Ali Junjua
    May 16, 2012 at 3:57 pm

    He Was A great Person Of Our Sweet Village.I am The Nephew Of Khadim Hussain .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *