بقیہ ایک یادگار پھینٹی – علامہ افتخار کے بچپن سے

 

تو جناب تلونڈی اڈے پر واپس جاتے ہیں – بس سے چمٹ کر ہم لاری اڈہ گوجرانوالہ جاتے ، جہاں سے کم از کم ایک کلومیٹر سے زائد پیدل سفر کرتے ہوے ہم اپنے سکول جو کہ دھلے میں واقع تھا، وہاں جاتے ، پھر بھی ابھی نہ تو خاکروب اور چپراسی آیا ہوتا اور نہ ہی طلبا. زندگی کا پہیہ گھومتا رہا. واپسی پر بھی  اکثر بس والے بٹھانے سے گریز کرتے ، وجھہ یہ بھی تھی کہ طالبعلم کے لئے یکطرفہ کرایہ مرحوم بھٹو صاحب نے دس پیسے مقرر کرایا تھا، نہ تو طالبعلم دیتا ، نہ ہی بس والے اتنا اصرار کرتے پر بٹھانا پسند بھی نہ کرتے ، جس دن تو ہمارے والد مرحوم لاری اڈہ خود بٹھانے آتے ، وہ کنڈیکٹر کو چاہے کسی بھی ذات سے اس کا تعلق ہوتا ، کہتے بٹ صاحب اپنے بھتیجوں کو بٹھائیں … تو وہ بٹ کہلاۓ جانے کی خوشی میں ہی ہمیں بیٹھا لیتا …. کیوں کہ امین بٹ عرف میناں پہلوان اس وقت لاری اڈے کے کرتا دھرتا تھے. بہرحال والد صاحب مرحوم نے ہمیں نصیحت کی ہوئی تھی ، کہ سیٹ پر صرف اسی وقت بیٹھنا ، جب بس خالی ہو… جب سواریاں آجائیں تو فوری طور پر اٹھ جانا ،بیٹھے نہ رہنا ، عورتوں اور بزرگوں کو سب سے پہلے بٹھانا .. اور اسطرح سے ہم سکول کے بعد بس میں بھی ایک ہیلپر کی طرح ہوتے. ہمیں ابا جان سے  چار آنے روزانہ ملتے تھے .. کہ بیس پیسے آتی جاتی بار بس والے کو دینا .. بس والے نہ لیتے تو ہماری عیاشی ہو جاتی.. ہم آلو چنے یا  میٹھی دال یا جب کبھی زیادہ بھوک نہ ہوتی تو سکول کے ٹھیکیدار سے ایک دھاگے میں پروئی ہوئی انجیر ملتی جسے  ہمارے سکول میں اس وقت ہشیاری کا نام دیا گیا تھا .. ہم اسے واقعی معصومیت سے ہشیاری کہ کر ہی طلب کرتے -( جاری ہے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *