تلونڈی کی گلیوں سے سیلانی کا گزر

صبح سویرے گاؤں کی گلیوں میں گھومنے نکل گیا تھا،۔
پچاس سال میں واقعی ایک دنیا بدل جاتی ہے ،۔ میری یادوں کی گلیاں ، ان گلیوں کا رومانس ، وہ سب کتنا بدل چکا ہے ۔
کاش کہ یہ تبدیلی مثبت ہوتی ،۔

گورنمنٹ پرائمری سکول تلونڈی موسے خان،۔
کا
گیٹ ۔

گورنمنٹ پرائمری سکول تلونڈی موسے خاں کے گیٹ پر لگا ہوا ایک بینر ،۔
6-6-2017

قبرستان ، ادھ صدی پہلے یہ ساری جگہ سکول ہی ہوا کرتی تھی ،۔

برگد کا وہ پرانا درخت جس نی چھاؤں میں جولاہوں لکے جانور بندہے ہوتے تھے ،۔
واٹر سپلائی کی ٹنکی کی تعمیر اور ای کی تباہی اور برگد کے درخت کی چھاؤں کے “روڑی ” بننے میں پچاس سال لگے ہیں ،۔

طفیل مستری اگلے ویہڑے والے کے گھر کا پچھلا دروازہ ، جس تک پہنچنے کے لئے دس قدمچے بنے ہوتے تھے ،۔
اج اس دروازے کی چوکھٹ مٹی میں دب چکی ہے ،۔

یونیون کونسل کا دفتر ، جہان جب بھی کسی کو برتھ سرٹفیکیٹ کی ضرورت پرٰ ،اس کو ریکارڈ کے جل جانے کی کہانی سنائی گئی ،۔

جنج گھر ، تلونڈی موسے خان کے مغربی محلے کے اس جنج گھر کے ساتھ کئی لوگوں کی کئی حسیسن یادیں بسی ہوئی ہیں ،۔
یہ گھنڈرات کبھی عظیم الشان عمارت ہوا کرتے تھے ،

جنج گھر گھر کا دروازہ جس کی چوکھٹ ہی نہیں ادھا دروازہ مٹی میں دب چکا ہے ،۔

جنج گھر گھر کا دروازہ جس کی چوکھٹ ہی نہیں ادھا دروازہ مٹی میں دب چکا ہے ،۔

تلونڈی موسے خان میں واقع گرجا گھر کے دروازے پر کتاب مقدس کی ایک آیت مبارک ،۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *