صبح سویرے گاؤں کی گلیوں میں گھومنے نکل گیا تھا،۔
پچاس سال میں واقعی ایک دنیا بدل جاتی ہے ،۔ میری یادوں کی گلیاں ، ان گلیوں کا رومانس ، وہ سب کتنا بدل چکا ہے ۔
کاش کہ یہ تبدیلی مثبت ہوتی ،۔

برگد کا وہ پرانا درخت جس نی چھاؤں میں جولاہوں لکے جانور بندہے ہوتے تھے ،۔
واٹر سپلائی کی ٹنکی کی تعمیر اور ای کی تباہی اور برگد کے درخت کی چھاؤں کے “روڑی ” بننے میں پچاس سال لگے ہیں ،۔

طفیل مستری اگلے ویہڑے والے کے گھر کا پچھلا دروازہ ، جس تک پہنچنے کے لئے دس قدمچے بنے ہوتے تھے ،۔
اج اس دروازے کی چوکھٹ مٹی میں دب چکی ہے ،۔

یونیون کونسل کا دفتر ، جہان جب بھی کسی کو برتھ سرٹفیکیٹ کی ضرورت پرٰ ،اس کو ریکارڈ کے جل جانے کی کہانی سنائی گئی ،۔