تلونڈی ڈاٹ نیٹ کے متعلق ایک اہم خبر ، علامہ صاحب اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے تلونڈی ڈاٹ نیٹ کو چھوڑ گئے ہیں

علامہ افتخار احمد خالد صاحب نے اپنی گوناں گوں مصروفیات اور مجبوریوں کی وجہ سے
تلونڈی ڈاٹ نیٹ سے علاحدگی اختیار کر لی ہے
تلونڈی ڈاٹ نیٹ جو کہ فرد واحد کی ملکیت نہیں ہے ، اس نیٹ کی ٹیم علامہ صاحب کی خدمات کی بڑی مشکور ہے
علامہ صاحب اس سائیٹ ہر اس سائیٹ کی شروعات سے کام کرتے رہے ہیں
علامہ صاحب اگر اپنی مصروفیت کی وجہ سے کئی کئی دن کوئی پوسٹ نیٹ پر نہیں لگا سکے تو
انظامیہ کی صوابدید پر خاور اپنی پرانی تحاریر سے کچھ ناں کچھ پوسٹ کر کے سائیٹ کی رونق کا باعث بنتا رہا ہے
خاور جو کہ اردو میں بلاگ لکتا ہے
اور اس وقت انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو کا سب سے پرانا بلاگر ہے
انٹر نیٹ کی دنیا میں وکی پیڈیا کا نام کس نے نہیں سن رکھا ہو گا؟
اس وقی پیڈیا نامی اردو کے انسائیکلو پیڈیا کا منظم ہے اسی طرح نیٹ کی دنیا میں اون لاین اخبار اور بلاگنک کی دنیا کا اردو کا سب رنگ چلانے کے ساتھ کئی دیگر سائیٹیں چلاتا ہے
لیکن خاور کا اس نیٹ سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ انتظامیہ کے دوسرے افراد کا ۔
اعجاز بھٹی کی تجویز ہے کہ اب تلونڈی سے کسی جوان لڑکے کو تلونڈی ڈاٹ نیٹ کی ذمہ داری سونپ دی جائے
جس کے لیے اعجاز بھٹی نے اختر بھٹی اگلے ویہڑے والے کا نام تجویز کیا ہے
لیکن ابھی یہ صرف ایک تجویز ہے
اس بات کا  انحصار اختر کی مرضی پر ہے کہ
اس ذمہ داری کو قبول کرتا ہے کہ نہیں
اس کے علاوہ تین اور نام ہیں جو کہ انتظامیہ کی نظر میں ہیں
معاملات کو اگے چلانے کے لیے اعجاز بھٹی ہفتہ دس دن میں پاکستان جا رہا ہے
اس کے بعد ستمبر کے تیسرے ہفتے میں خاور بھی پاکستان جائے گا تاکہ عملے کا انتظام کیا جائے
جب تک انتظامیہ پاکسان میں عملے کا انتظام نہین کر لیتی اس وقت تک قارین کو دقت تو ہو گی
لیکن دل کو تسلی دینے کے لیے
خود سے یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ
پہلے کون سی ہر روز کی تازہ خبریں ہوتی تھیں
اب انتظامیہ اس بات کا بھی سختی سے خیال رکھے گی کہ
جن لوگون اور تنظیموں کا تلونڈی اور اس کے نزدیکی دیہات سے تعلق نہیں ہے ان کی تصویروں اور بیانات اور دیگر مشہوری کی خواہشوں کا بائکاٹ کیا جائے
خبروں کی یہ سائیٹ خود خبر بن گئی ہے
معاملات کس رنگ میں جاتے ہیں ان سے قارین کو آگاہ رکھنے کے لیے
خاور اس سائیٹ کو اپ ڈیٹ رکھے گا
اپ امید رکھیں کہ اب اس سائیٹ کو پہلے سے بہتر
کوالٹی سے چلایا جائے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *