خاور کی یادیں ، تلونڈی کی باتیں

Khawar

Khawar khokhar

ایک سال کی بات ہے
کہ رحمانیوں نے آلو کی فصل کاشت کی تھی،آلو کی کھدائی میں جڑوں کے ساتھ لٹکے ہوئے چھوٹے چھوٹے  “ منی آلو” بہت ہوتے تھے ۔
بہت سال پہلے کی بات ہے میں بہت چھوٹا ہوتا تھا ، غالباً مڈل سکول میں  ، میں بھی اس فصل کی کھدائی میں گیا تھا ۔
سفید آلو کے “ بچے “ کوئی چار پانچ کلو اکھٹے کر کے لایا تھا
ان دنوں آلو کو چولہے کی راکھ میں بھون کر کھانے کا اپنا ہی مزہ تھا۔
لیکن اس بچے آلو کو بھوننا بڑا مشکل کام تھا کہ راکھ میں مل کر گم ہو جاتے تھے ۔
اس لئے میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا کہ کیوں نہ ان آلوؤں کو بھٹھی پر بھون لیا جائے ۔ دانے بھوننے کی یہ بھٹھی ان  دنوں کوٹھی کے سامنے سڑک کے دوسری طرف  ڈاکٹر جلال صاحب کی دیوار کے نیچے ہوتی تھی ۔
میں دادای کو ساتھ لے کر جب آلو بھوننے کے لئے بھٹھی پر گیا تو  بھٹی والی نے کہا کہ
ہم کھوکھر لوگ ہوتے ہیں ، اگر ہم آلو کو کڑاہی کی ریت میں ڈال کر بھون دیں تو  ہمارے بچوں کو اور کھانے والوں کے بچوں کو بھی پھوڑے اور پھنسیاں نکل آتی ہیں  ۔
دادی نے میرا منہہ دیکھا کہ  پتر اب کیا کرنا ہے  ۔
مجھے بھنے آلو کھانے کا شوق چڑھا ہوا تھا۔
میں ضد پر اتر آیا کہ
اگر تم کھوکھر ہوتے ہو تو میں بھی کھوکھر ہوں ،مجھے بھی علم ہے کہ اگر پھوڑے پھنسیاں نکلیں گی تو میں دھریک اور پھلا کے پتوں کا گھوٹا لگا کر پیوں گا۔
بھٹی والی  میری اس ضد سے ہار گئی
اور اس کے  ریت میں آلو بھون کر مجھے دئے ۔
یقین کرین کہ نہ اس کو اور نہ مجھے کسی کو بھی کوئی پھوڑے پھنسیاں نہیں نکلیں تھیں۔
یاد رہے کہ
چیمہ جاٹوں کے دیہاتوں میں جیسا کہ تلونڈی موسی خان ہے ۔
یہاں ، لوہار ، کمہار ، ماچھی ، تیلی  اور چھینبے لوگ  کھوکھر ذات کے ہوتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *