کچھ یادیں ،کچھ پیارے لوگوں کا ذکر

Khawar

Khawar

تلونڈی موسے خان میں سپورٹس  کے معاملے ہم سے ایک نسل پہلے کے لوگ اور ایک نسل بعد کے لوگوں نے کچھ نام کمایا ہے لیکن میری نسل کے لوگ سپورٹس میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کرسکے ۔
میری پیدائش پینسٹھ کی ہے ۔
ہائی سکول میں انیس سو چھہتر میں پہنچا ، لیکن ہائی سکول گھر کے قریب ہونے کی وجہ سے  سکول میں ہونے والی کھیلوں کو دیکھتے ہی رہتے تھے ۔
ہم سے بڑی عمر کے لوگوں میں کبڈی ، رسہ کھینچنا ، والی بال، پول واٹ ، ہائی جمپ ،نیزہ پھینکنا، گولا پھینکنا ، جیسی  کھیلوں میں حصہ لیتے رہے ہیں ۔
میوزک یا کہ بینڈ کہہ لیں اس میں میں نے اپنے بچپن میں کسی کو بھی کرتے نہیں دیکھا، لیکن سکول میں ایک کمرہ جس کو پی ٹی روم کہتے تھے اس کی صفائی میں بینڈ کا بہترین سمان میں دیکھا تھا جو کہ بر ترین حالت میں تھا ، ڈول پھٹ چکے تھے ، باجے اور کلارنٹ ٹوٹ چکی تھیں ۔
لکھتے لکھتے بات کیا کرنی تھی اور سوچ کس طرف چل نکلی کی سکول میں کیا کیا چیزیں ہوا کرتی تھیں ۔
میرے بہت ہی بچپن میں  ابھی گاؤں میں بجلی بہت ہی کم گھروں میں تھی ، ہمارے گھر میں نہیں تھی ، اور ناں کی اڑوس پڑوس میں بجلی تھی لیکن گورنمنٹ ہائی سکول میں  بجلی تھی اور مرزائیون کی مسیت  میں بجلی لگی تھی اور بڑی مساجد میں بھی بجلی تھی۔
سکول میں گیٹ سے داخل ہوں تو سامنے والے کمروں میں لمبے لمبے راڈوں والے سیلنگ فین لگے ہوتے  تھے ۔ ایک ایک کمرے میں کوئی تین تین یا چار چار پنکھے لگے ہوتے تھے ۔
ایک پنکھے کے چوری ہونے کا بہت چرچا ہوا تھا ، لیکن پھر یکے بعد دیگرے سبھی چوری ہو گئے ، شائد اج کی نسل کو  یہ بات عجیب لگے کہ گومنٹ ہائی سکول تلونڈی موسے خان میں   اج کے ترقی یافتہ ممالک کے سکولوں جیسا سامان  ساٹھ کی دہائی میں بھی موجود تھا ۔
بات ہو رہی تھی ہم سے ایک نسل پہلے کے کھیلون کے کھلاڑی تلونڈی کے عظیم سپوتوں کی ۔
چوہدری محبوب الہی چیمہ  بابے بوٹے کے بیٹے عنایت مسیح کو ساتھ لے کرپول واٹ کی پریکٹس کیا کرتا تھا۔
اس کے بعد چوہدری پرویز چیمہ کو پول واٹ کی پریکٹس کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جن کے ساتھ یعقوب ناگرہ صاحب ہوا کرتے تھے ،۔
چوہدری پرویز چیمہ صاحب بڑے ذہیں اور تخلیقی ذہن کی شخصیت  ہیں ۔
ہمارے بہت بچپن میں انہوں نے سکول میں  ایک سٹیج ڈرامہ  سٹیج کیا تھا ، جس کا نام تھا “ شکرا بدمعاش” ۔
مجھے اج تک اس ڈرامے میں چلنے والی گولیوں میں پٹاش کی گندھک کی بو یاد ہے ۔
روش شاھ ولی کی قبر پر میلہ آرگنائیز کرنے اور شروع کرنے والے بھی چوہدری پرویز صاحب ہی تھے ۔
رسہ ، کبڈی کے کھلاڑیوں حنیف نائی ، لیاقت اور ریاست ماچھی دونوں بھائی  چھائے ہوئے ہوتے تھے ۔
حنیف نائی ، جو بعد میں چھچھر والی منتقل ہو گئے ، ناہون نے گوجرانوالہ میں سول لائین برانچ کے نیشنل بنک میں سائکلون کے سٹینڈ کا ٹھیکا لیا  ہوا تھا ۔
جو کہ بعد میں مستقل ان کا ہی ہو گیا
جس کا واقعہ یہ ہے کہ
ایک دفعہ کوئی دو ڈاکو پستول اور بندوک لے کر نیشنل بنک سول لائین برانچ کو لوٹنے چلے آئے ۔
بنک کو لوٹ کر جب وہ باہر نکلے تو ان کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں اور بد حواسی دیکھ کر حنیف نائی نے ان کو روک لیا
کہ اوئے تم کیا کر رہے ہو لاؤ یہ بندوق اور پستول مجھے دو ۔
ان ڈاکوؤں نے بڑی شرافت سے اپنا اسلحہ حنیف نائی کے حوالے کردیا ، اور حنیف نائی صاحب نے ان کو پولیس کے حوالے کردیا۔
اس دن کے بعد سول لائین برانچ کا سائکل سٹینڈ کا ٹھیکا  حنیف صاحب کی اولاد کے ہی پاس ہے ۔
ریاست اور لیاقت بھائیوں میں سے ماسٹر ریاست صاحب کو سبھی لوگ جانتے ہیں ۔
ہر دل عزیز اور ہنس مکھ ماسٹر صاحب کو اس عمر میں دیکھ کر اگر  کوئی یہ گمان کرئے کہ “بابا” تو ؟
اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ اپنی جوانی میں ماسٹر ریاست صاحب  کبڈی کے جانے پہچانے کھلاڑی ہوا کرتے تھے ۔
اس کے بعد ہماری نسل کی باری آتی ہے تو اس میں سے کوئی بھی قابل ذکر کھلاڑی نہیں ہوا ۔
ہمارے بعد کی نسل میں والی بال میں اور کچھ لڑکون نے کرکٹ میں نام کیا
کرکٹ میں  چوہدری سہیل مرید چیمہ ، چوہدری آصف چیمہ ،راشد پٹواری ، جاوید مستری ( اگلے ویڑہے والا) اور رفیع مستری کے نام یاد آ رہے ہیں ۔
سہیل مرید چیمہ اور بھی کئی کھیلوں میں حصہ لیتا رہا ہے ، جیسے کہ تن سازی  اسٹریلیا میں مقیم سہیل کی جسمانی ساخت دیکھ کر کوئی بندہ اندزاہ لگا سکتا ہے کہ سہیل ایک ورزشی جسم کا مرد ہے ۔
والی بال میں سیف اللہ ناگرہ ، انور گھمن، اصغر کمہار ( راقم کے ماموں )اور مختار چیمہ ہوا کرتے تھے ۔
مختار چیمہ مرحوم ، جس کو مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے
کہ ایک انتہائی خوبصورت دل والا مختار چیمہ یاروں کا یار بندہ تھا ۔
سرخ سفید مختار کو یار دوست “ریڈ مین “ بھی کہا کرتے تھے ۔
کیونکہ اس کا چہرہ چکوترے ( سرخ مالٹا) جیسا سرخ تھا ۔
جبڑوں کے نیچے سوجن ہو جانے کی وجہ سے  کبھی کبھی اس کا چہرہ بھاری لگتا تھا ۔
جس کو کہ کبھی کسی دوست نے نشانہ نہیں بنایا لیکن مختار خود اس چیز کو زیادہ ہی محسوس کر گیا
اور اس سوجن کے اپریشن میں جان سے گزر گیا ۔
اس کی موت کا بہت افسوس ہوا ، بلکہ جب بھی یاد آتا ہے ، دکھی کر جاتا ہے ۔
مختار چیمہ ایک بہترین دوست تھا
اللہ اس کوغریق رحمت فرمائیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *