سائیں سلوک کا نام سائیں سلوکی پڑ جانے کی وجہ ، اور دانت نکالنے کی کرامت کا ماجرہ

تلونڈی موسے خان 

سایں سلوکی ، المعروف سائیں سلوک ۔

سایں سلوکی ، المعروف سائیں سلوک ۔

کی باتوں میں ، ایک جگہ سائیں سلوکی کا تعارف اور نام کی وجہ تسمیہ کچھ اس طرح لکھی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے گاؤں سے جو دو تین لڑکے سکول نہیں جاتے تھے ان میں ایک تو کھالو کمہار تھا جو بعد میں کھالو جلیبیاں والا کے نام سے مشہور هوا
اور دوسرا تھا جی سائیں سلوکی
سائیں سلوکی ، جولاہوں کا لڑکا تھا
جو که ایک سلوکا ( چھوٹا کرتا ) سا پہنے سکول کے ہی گرد گھوما کرتا تھا ، کیوں که ان کے گھر(جولاہوں) سکول اور گاؤں کے درمیان پڑنے والے چھپڑ کے پاس ہی تھے اور ان کی بھنیس برگد کے نیچے بندھی هوتی تھی ۔
ابھی واٹر سپلائی والی ٹنکی کا کوئی وجود نہیں تھا ،۔

یہاں جوةر تھا گاؤں اور سکول کے درمیان جوڑ تھا ۔

جس پر پل بنایا گیا تھا ،۔

یہ پل جس میں ،اپنی مدد آپ کے تحت گاؤں والوں نے بنایا تھا ،۔

اس میں سکول کے بچوں سے پیسے لئے گئے تھے ،۔

پہلی دوسری سے پچاس پچاس پیسے اور تیسری چوتھی اور پانچویں کلاس کے بچوں سے پورا ایک رویہ سکہ رائج الوقت لیا گیا تھا،۔

ماسٹز حنیف صاحب باورے والے نئے نئے تلونڈی کے سکول میں لگے تھے۔

  ان کوابھی معلوم نهیں تھا کہ یه لڑکا سکول میں نهیں پڑھتا
اس لیے انہوں نے اس کو اوارھ پھرتے هوئے دیکھ کر اواز دی
اؤے ادھر اؤ
لیکن سائیں سلوکی نے سنی ان سنی کردی
جس پر ماسٹر حنیف صاحب نے دوبارھ اواز دی
اؤے سلوکی
اس پر سب کلاس والوں کے ہاسے نکل گئے
اس دن سے ان کے پڑوسیوں نے اور برادری کے لڑکوں نے اس کو سائیں سلوکی کہنا شروع کردیا
سائیں اس لیے که ان دنوں قبرستان کے متولی سارے یہیں ہوتے تھے اور سب کو سائیں ہی کہ کر پکارا جاتا تھا۔

سائیں سلوکی جس کا اصلی نام کچھ اور تھا لیكن زمانے نے اس کو سائیں سلوکی ہی کے نام سے یاد ركھا ہے
یه سائیں سلوکی سکول نہ پڑھتے ہوئے بھی
همارے ساتھ ہی سکول کی سرگرمیوں میں شامل سا ہوتا تھا
که تفریح کا وقت ہو یا ماسٹر جی کی غیر حاضری!،۔

یا پھر ایسے ہی جماعت کے پاس آ کر کھڑا ہوجانا
ان دنوں تحصیل ڈسکه ضلع سیالکوٹ کا ایک بندھ جو که سیکھم کے نزدیک گاؤں گماناں کا تھا
ایک بنپو سا لے کر دانتوں کا علاج کیا کرتا تھا
وہ بندہ ،اس بنپو پر یه اعلان کیا کرتا تھا که دانت نکلوا لو یا دوائی لے لو
یه بندھ ،اپنا گاؤں گھماناں چھوڑ کر تلونڈی میں جولاہوں کے مکانوں کے قریب کہیں شفٹ هو گیا ،۔

تھوڑے ہی دن یہاں رہ کر پھر کہیں اور چلا گیا تھاـ
مجھے اچھے طرح یاد ہے که ایک بندھ اس دانتوں کی پھیری والے کو تلاش کرتے هوئے یہاں آیا جس کے ساتھ اس کی بیوی تھی غالباً
اور اس نے هم سے پچھا که یهاں دانت نکالنے والے کا گھر کہاں ہے
اس وقت وهہں ميں اور لاڈو جولاھا اور اصغر جولاها تھے۔

قریب هی سائیں سلوکی بھی پھر رها تھا
سائیں سلوکی فوراً وہاں آکیا که کس کا پوچھ رہے ہو؟


جب سائیں کو بات بتائی تو اس نے بجائے دانتوں کے پھیری والے کا گھر بتانے کے ، کہنے لگا مجھے دانت دیکھاؤ
اب جی وہ دانت پہلے ہی ریشے کی وجہ سے نرم ہو چکا تھا
تو جی سائیں سلوکی نے انگلی ڈال کر زور زور سے جھٹکے دئیے اور دانت نکال کر اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا
هم نے اس کو اس بات پر دادا دینی شروع کردی
اس داد دینے میں
اصغر جولاھ سب سے اگے تھا
اب سنا ہے که سائیں سلوکی
سائیں سلوک بن چکا ہے اور دانتوں کو زنبور کی بجائے هاتھ سے نکالنے کا ماہر سمجھا جاتا هے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *